🏠 Home
MCQ Practice

Urdu MCQs

"نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
  • B. چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
  • C. جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
  • D. چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
Explanation:
یہ فیض احمد فیض کی معروف نظم ’’نثار میں تری گلیوں کے‘‘ کا شعر ہے۔

"ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
  • B. ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
  • C. ابھی تو میں جوان ہوں
  • D. مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
Explanation:
یہ فیض کا انقلابی اور حوصلہ افزا شعر ہے۔

’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘‘ کس شاعر کی نظم ہے؟

  • A. احمد فراز
  • B. فیض احمد فیض
  • C. جگر مراد آبادی
  • D. حفیظ جالندھری
Explanation:
یہ فیض احمد فیض کی نہایت مشہور نظم ہے۔

"گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
  • B. ابھی دلوں میں بہت دور کا سفر باقی ہے
  • C. ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
  • D. نثار میں تری گلیوں کے اے وطن
Explanation:
یہ فیض احمد فیض کی مشہور غزل کا مطلع ہے۔

"راہِ دورِ عشق میں روتا ہے کیا" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
  • B. آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
  • C. کوئی امید بر نہیں آتی
  • D. ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
Explanation:
مستند متن ’’راہِ دورِ عشق میں روتا ہے کیا‘‘ ہے، اور اگلا مصرع یہی ہے۔

"ہستی اپنی حباب کی سی ہے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. یہ نمائش سراب کی سی ہے
  • B. پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
  • C. حالت اب اضطراب کی سی ہے
  • D. یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
Explanation:
یہ میر کا مشہور شعر ہے اور زندگی کی ناپائیداری کی خوب ترجمانی کرتا ہے۔

"دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
  • B. یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
  • C. بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
  • D. حال اب اضطراب کی سی ہے
Explanation:
یہ میر تقی میر کا نہایت مشہور شعر ہے۔

"بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
  • B. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
  • C. کوئی میرے دل سے پوچھے
  • D. ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
Explanation:
یہ شعر مرزا غالب کی معروف غزل سے ہے۔

"نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
  • B. ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
  • C. کوئی امید بر نہیں آتی
  • D. دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
Explanation:
یہ غالب کا فلسفیانہ رنگ لیے ہوئے مشہور شعر ہے۔

"ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
  • B. کوئی امید بر نہیں آتی
  • C. ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
  • D. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
Explanation:
یہ غالب کا نہایت معروف طنزیہ و فکری شعر ہے۔