’’جوابِ شکوہ‘‘ کے شاعر کون ہیں؟ A. مرزا غالب B. علامہ اقبال C. اکبر الہ آبادی D. احمد فراز Explanation: ’’جوابِ شکوہ‘‘ علامہ اقبال کی مشہور نظم ہے۔
"جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں B. اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو C. تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے D. اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی Explanation: یہ احمد فراز کی محبوب و مقبول غزل کا شعر ہے۔
"کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. دل ابھی تک جوان ہے پیارے B. کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا C. ابھی تو میں جوان ہوں D. بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں Explanation: یہ حفیظ جالندھری کا معروف شعر ہے۔
"دل ابھی تک جوان ہے پیارے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. کس مصیبت میں جان ہے پیارے B. کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا C. ابھی تو میں جوان ہوں D. ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں Explanation: یہ حفیظ جالندھری کی غزل کا شعر ہے۔
"دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. دل مگر کم کسی سے ملتا ہے B. بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں C. عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا D. ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں Explanation: یہ اکبر الہ آبادی کا معروف شعر ہے۔
"ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں B. دل مگر کم کسی سے ملتا ہے C. عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا D. بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں Explanation: یہ جگر مراد آبادی کا حوصلہ افزا اور معروف شعر ہے۔
"اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. دل مگر کم کسی سے ملتا ہے B. سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے C. ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں D. بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں Explanation: یہ جگر مراد آبادی کا نہایت معروف شعر ہے۔
"کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں B. وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے C. جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے D. چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے Explanation: یہ فیض احمد فیض کی مقبول غزل کا شعر ہے۔
"ہم دیکھیں گے" اس نظم کے آغاز کے فوراً بعد کون سا مصرع آتا ہے؟ A. وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے B. لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے C. جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں D. روئی کی طرح اڑ جائیں گے Explanation: فیض کی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کا آغاز ’’ہم دیکھیں گے / لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ سے ہوتا ہے۔
Q369 "دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے B. چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے C. جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے D. لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے Explanation: یہ فیض احمد فیض کی معروف غزل کا شعر ہے۔