’’نو دو گیارہ ہونا‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ A. حساب لگانا B. فوراً بھاگ جانا C. جلدی پڑھنا D. بہت سوچنا Explanation: اچانک رفوچکر ہو جانا اس محاورے کا مفہوم ہے۔
’’چور کی داڑھی میں تنکا‘‘ سے کیا مراد ہے؟ A. مجرم خود گھبرا جاتا ہے B. داڑھی رکھنا اچھا ہے C. چوری کرنا آسان ہے D. کمزور آدمی ڈرتا ہے Explanation: مجرم شخص اپنے رویے سے خود ظاہر ہو جاتا ہے۔
’’سانچ کو آنچ نہیں‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ A. آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے B. سچ کو نقصان نہیں ہوتا C. سچ بولنا مشکل ہے D. جھوٹ جلد پکڑا جاتا ہے Explanation: سچائی آخرکار محفوظ رہتی ہے۔
’’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ سے کیا مراد ہے؟ A. ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں پھنس جانا B. آسمان سے چیز گرنا C. سفر کرنا D. خوش نصیبی Explanation: ایک مشکل سے نکلتے ہی دوسری مشکل میں پھنسنا مراد ہے۔
’’انگلیاں اٹھنا‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ A. ہاتھ ہلانا B. اعتراض ہونا C. دستخط کرنا D. تعریف ہونا Explanation: کسی پر شک یا الزام آنا ’’انگلیاں اٹھنا‘‘ کہلاتا ہے۔
’’دل پر پتھر رکھنا‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ A. ضد کرنا B. سخت دل ہونا C. دل مضبوط کر کے مشکل کام کرنا D. خاموش ہو جانا Explanation: جذبات دبا کر فیصلہ کرنا اس محاورے کا مطلب ہے۔
’’چھاتی پر سانپ لوٹنا‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ A. خوش ہونا B. سخت حسد ہونا C. بیمار پڑنا D. ڈر جانا Explanation: شدید حسد اور جلن کے لیے یہ محاورہ آتا ہے۔
’’راجکمار‘‘ کی مؤنث کیا ہے؟ A. راجکماری B. راجنی C. رانی D. راجشری Explanation: ’’راجکمار‘‘ کی مؤنث ’’راجکماری‘‘ ہے۔
’’مرغا‘‘ کی مؤنث کیا ہے؟ A. مرغہ B. مرغی C. مرغانی D. مرغت Explanation: ’’مرغا‘‘ کی مؤنث ’’مرغی‘‘ ہے۔
’’کبوتر‘‘ کی مؤنث کیا ہے؟ A. کبوتری B. کبوترہ C. کبوتریہ D. کبوترنی Explanation: ’’کبوتر‘‘ کی مؤنث ’’کبوتری‘‘ ہے۔