🏠 Home
MCQ Practice

Urdu MCQs

"یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. یہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
  • B. ابھی چراغ سراپا سوال باقی ہے
  • C. سحر کی آنکھ میں نم بھی تو ہے
  • D. یہ کون سا خواب ہے جو ٹوٹا نہیں
Explanation:
یہ فیض کی نظم ’’صبح آزادی‘‘ کا مشہور مصرع ہے۔

"دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. دل ابھی تک جوان ہے پیارے
  • B. لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
  • C. زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
  • D. کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
Explanation:
یہ فیض کا امید آفریں شعر ہے۔

"متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
  • B. کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
  • C. ابھی دلوں میں بہت دور کا سفر باقی ہے
  • D. بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
Explanation:
یہ فیض احمد فیض کا حوصلہ افزا شعر ہے۔

"نازکی اس کے لب کی کیا کہیے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. رنگت اس کے رخ کی کیا کہیے
  • B. پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
  • C. بات اس کے جواب کی سی ہے
  • D. چپ بھی اک انتخاب کی سی ہے
Explanation:
یہ میر کا معروف شعر ہے۔

"فقیرا نہ آئے صدا کر چلے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. دعا ہی دعا ہم سنا کر چلے
  • B. میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
  • C. تمہارے لیے ہم جفا کر چلے
  • D. یہ دنیا عجب ہے بتا کر چلے
Explanation:
یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ہے۔

"الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. درد نے دل کو اور بے تاب کیا
  • B. دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا
  • C. عشق نے پھر سے مجھے ناکام کیا
  • D. غم نے مجھ کو بے آرام کیا
Explanation:
یہ میر کا نہایت معروف شعر ہے۔

"بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. زندگی بھی تو کوئی شے ہے
  • B. آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
  • C. عشق ہی اصل امتحاں ٹھہرا
  • D. عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
Explanation:
غالب نے انسان اور آدمی میں فرق واضح کیا ہے۔

"دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. غم اگر آئے تو ہم گھبرائیں کیوں
  • B. روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
  • C. دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
  • D. درد کی حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
Explanation:
یہ غالب کا معروف شعر ہے۔

"رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
  • B. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
  • C. آنسو نہ بن سکے تو اثر کیا ہے
  • D. جو دل سے نہ نکلے وہ سخن کیا ہے
Explanation:
یہ غالب کا نہایت معروف شعر ہے۔

"قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟

  • A. مرنے میں جو لطف ہے وہ جینے میں کہاں
  • B. موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
  • C. حیات و غم کا یہ رشتہ عجب ہے
  • D. غم ہی تو جینے کا سرمایہ ہے
Explanation:
یہ غالب کا فلسفیانہ شعر ہے۔