"یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. یہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں B. ابھی چراغ سراپا سوال باقی ہے C. سحر کی آنکھ میں نم بھی تو ہے D. یہ کون سا خواب ہے جو ٹوٹا نہیں Explanation: یہ فیض کی نظم ’’صبح آزادی‘‘ کا مشہور مصرع ہے۔
"دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. دل ابھی تک جوان ہے پیارے B. لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے C. زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے D. کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا Explanation: یہ فیض کا امید آفریں شعر ہے۔
"متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے B. کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے C. ابھی دلوں میں بہت دور کا سفر باقی ہے D. بول کہ لب آزاد ہیں تیرے Explanation: یہ فیض احمد فیض کا حوصلہ افزا شعر ہے۔
"نازکی اس کے لب کی کیا کہیے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. رنگت اس کے رخ کی کیا کہیے B. پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے C. بات اس کے جواب کی سی ہے D. چپ بھی اک انتخاب کی سی ہے Explanation: یہ میر کا معروف شعر ہے۔
"فقیرا نہ آئے صدا کر چلے" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. دعا ہی دعا ہم سنا کر چلے B. میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے C. تمہارے لیے ہم جفا کر چلے D. یہ دنیا عجب ہے بتا کر چلے Explanation: یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ہے۔
"الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. درد نے دل کو اور بے تاب کیا B. دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا C. عشق نے پھر سے مجھے ناکام کیا D. غم نے مجھ کو بے آرام کیا Explanation: یہ میر کا نہایت معروف شعر ہے۔
"بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. زندگی بھی تو کوئی شے ہے B. آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا C. عشق ہی اصل امتحاں ٹھہرا D. عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا Explanation: غالب نے انسان اور آدمی میں فرق واضح کیا ہے۔
"دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. غم اگر آئے تو ہم گھبرائیں کیوں B. روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں C. دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے D. درد کی حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا Explanation: یہ غالب کا معروف شعر ہے۔
"رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے B. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت C. آنسو نہ بن سکے تو اثر کیا ہے D. جو دل سے نہ نکلے وہ سخن کیا ہے Explanation: یہ غالب کا نہایت معروف شعر ہے۔
"قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں" اس شعر کا اگلا مصرع کیا ہے؟ A. مرنے میں جو لطف ہے وہ جینے میں کہاں B. موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں C. حیات و غم کا یہ رشتہ عجب ہے D. غم ہی تو جینے کا سرمایہ ہے Explanation: یہ غالب کا فلسفیانہ شعر ہے۔